15 مئی 2012 - 19:30

ايران اور ايٹمي توانائي کي عالمي ايجنسي آئي اے اي اے کے درميان ويانا ميں ہونےوالے دوروزہ مذاکرات کو دونوں فريقوں نے مثبت قرار ديا ہے -

ابنا:  آئي اے اي اے ميں ايران کے مستقل مندوب علي اصغر سلطانيہ نے ان مذاکرات کے اختتام پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ايران اور ايجنسي کے درميان باقي بچے تصفيہ طلب معاملات کو حل کرنے کے لئے ايک فريم ورک تيار کرنے کے سلسلے ميں پيشرفت ہوئي ہے –

علي اصغر سلطانيہ نے کہا کہ ايران اور آئي اے اي اے کے درميان مذاکرات آئندہ پير کو بھي ہوں گے- 

   ياد رہے کہ ايران اور آئي اے اي اے نے ويانا ميں اپنے مذاکرات کا نيا دور گذشتہ پير سے شروع کيا تھا- ان مذاکرات کا مقصد ابہامات کو برطرف کرنا اور ايجنسي کے ممکنہ سوالات کا جواب دينا تھا-

مذاکرات کے دوران دوطرفہ تعاون اور ايجنسي کے ممبر ملکوں کے حقوق کے سلسلے ميں آئي اے اي اے کي ذمہ داريوں پر عمل کرنے کے طريقوں کا جائزہ بھي ليا گيا-

مبصرين کا کہنا ہے کہ ان دونوں موضوعات پر مذاکرات انتہائي اہميت کے حامل ہيں کيونکہ ان معاملات پر ابہامات کا بر طرف ہوجانا ايران کے ايٹمي معاملے کو ايک سياسي معاملے بناديئے جانے کے عمل کو ختم کرسکتا ہے جس کو بہانہ بنا کر ايران پر مغرب کي طرف سے غيرقانوني پابندياں عائد کي جارہي ہيں -  دوسري جانب يہ تعاون جس ميں خاص طور پر ايران کي طرف سے کافي آگے بڑھ کر تعاون کيا جاتا رہا ہے اورجس کي مثال کسي بھي ممبر ملک کي طرف سے نہيں ملتي اس حقيقت کو ثابت کرتا ہے کہ ايران اين پي ٹي کا ايک ذمہ دار ممبر ملک ہے، اسي لئے کسي بھي بہانے سے ايران کو اس کے حقوق سے محروم نہيں کيا جاسکتا- 

      ايجنسي اور اين پي ٹي کے سبھي ممبر ملکوں کے حقوق واضح طور پر اين پي ٹي اور ايجنسي کے چارٹر ميں بيان کئے گئے ہيں جن کي تشريح کي کوئي خاص ضرورت نہيں ہے  - اور يہ بات بھي سب پر عياں ہے کہ ايجنسي بھي فني مسائل ميں ممبر ملکوں کو مدد پہنچانے کي پابند ہے تاکہ سبھي ممبر ممالک پر امن مقاصد کےلئے ايٹمي ٹکنالوجي سے استفادہ کرسکيں - اسي لئے ايجنسي کے ساتھ ايران کے مذاکرات دوطرفہ فني اور قانوني تعاون کے دائرے ميں ہي انجام پارہے ہيں - البتہ پانچ سال قبل بھي ايران اور آئي اے اي اے نے ايک اصولي اتفاق کيا تھا جس ميں ايران نے وعدہ کيا تھا کہ وہ ہر طرح کے شبہات کا جواب دينے کے لئے تيار ہے اور اس نے پارچين ايٹمي تنصيبات کا معائنہ کرانے کا بھي وعدہ کيا تھا اگرچہ ايران ايسا کرنے کا قانوني طور پر پابندبھي نہيں تھا ليکن اس کے باوجود ايران نے اپنے وعدے کے مطابق ايجنسي کے ساتھ ہونےوالے سمجھوتے کے تحت اس ادارے کے ساتھ بھرپور تعاون کيا -

اس وقت بھي ايران اور ايجنسي کے مذاکرات کي اہميت کا تقاضہ ہے کہ ايک معين وقت کے تحت فريم ورک تيار کيا جائے-  بہرحال اس بات پر اتفاق کہ  آئندہ پير کو بھي مذاکرات جاري رہيں گے اس بات کو ظاہر کرتے ہيں کہ فريقين آپسي مسائل کو حل کرنے ميں دلچسپي رکھتے ہيں-  اگر چہ ايران کے سلسلے ميں ايجنسي کي طرف سے سياسي طور پر جو دعوے کئے گئے ہيں ان کو حل کرنے ميں مشکلات پيدا ہوسکتي ہيں-

اس درميان ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے دوسرے دور کے مذاکرات بھي آئندہ ہفتے يعني تيئس مئي کوبغداد ميں ہونےوالے ہيں- يہ وہ مذاکرات ہيں کہ جن کے پہلے دور کے بارے ميں جو استنبول ميں ہوئے تھے ماہرين کا خيال ہے کہ مثبت اور مفيد رہے ہيں -.......

/169